مختلف نام :
پنرنواہ – ہندی پنرنواہ -بسکھپرا (biskhapra)،گداپراتا – فارسی اندقوقو – عربی جند قوقی لت – یونانی بسکھپرا (biskhapra plant)- جند قوقی – بنگالی سابونی – مرہٹی کھیونی – مہاراشٹری المرف – پنجابی اِٹ سٹ – عام نام اِٹ سٹ ۔
بسکھپرا (biskhapra) ہندی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں ہر ناشک یعنی زہر کاٹنے والی ۔چونکہ یہ بوٹی دافع زہر ہے اس لئے اس کی صفات کے پیش نظر آیورویدک مہرشیوں نے متفقہ طور پر اس کا نام بسکھپرا مخصوص کیا ہے۔ فاضل مہرشیوں نے اس کی دو قسمیں بتائی ہیں۔ ایک سرخ اور دوسری سفید۔ اسی طرح یونانی اطباء نے بھی اس کی دو قسمیں بتائی ہیں ۔ایک میدانی اور دوسری جنگلی لیکن دونوں قسم کی بوٹیوں کو "بسکھپرا ” ہی کہا جاتا ہے ۔
یہ بوٹی (biskhapra plant) بھارت ورش کی ایک مایہ ناز آیورویدک جڑی بوٹی ہے جس کا ذکر آیورویدک مہرشیوں نے اپنی اپنی تصنیفات میں لکھا ہے۔ بھگوان شنکر کے خیابانِ قدرت میں اس بوٹی کو خاص اہمیت و فضیلت حاصل ہے ۔مہاشنکر اور پاربتی نے اپنی شفقت مادر سے اس بوٹی میں بہت سے طبی اوصاف بھر دیئے ہیں جو ان کی چشم سرفرازی کا ایک قدرتی ثبوت ہے۔
شناخت :
یہ ہمہ صفت بوٹی (biskhapra plant) ہندوستان کے میدانوں میں زمین پر پھیلی ہوئی عام ملتی ہے ۔شروع برسات میں اور مینہ برس جانے کے بعد ماہ چیت بیساکھ میں بھی نمدار اور مکدر جگہوں پر اور گوبر وغیرہ کے ڈھیروں پر یہ بوٹی خوب سرسبز اور شاداب حالت میں بکثرت ملتی ہے۔ ویسے یہ خودرَو بوٹی ہے مگر شوقین اور شیدائی لوگ اس کی کاشت بھی کرتے ہیں لیکن بعض جاہل اور ناواقف کسان اسے اپنے کھیتوں سے اْکھاڑ پھینکتے ہیں اور مالی لوگ اسے اپنے باغوں میں بسیرا نہیں کرنے دیتے ۔
اس کے پتے (biskhapra plant) خرفہ کے پتوں سے بہت مشابہت رکھتے ہیں اور قدرے بڑے ہوتے ہیں ۔اس کی شکل قدرے بیضوی سی ہوتی ہے۔اس کے پتوں (biskhapra plant) کے کنارے پر کنگرے اور نوکیں نہیں ہوتیں ۔اس کے پھول سفید ،نیلے اور ہلکے سرخ و چھوٹی ساخت کے ہوتے ہیں ۔اس کی بیلیں کافی لمبائی لئے زمین کی سطح پر پھیلی ہوئی ہوتی ہیں ۔ان کی شاخوں کی گانٹھوں پر گھنڈیاں سی ہوتی ہیں جو کہ خرفہ کی گھنڈیوں سے مشابہت رکھتی ہیں ۔اس بوٹی (biskhapra plant) کے بیج سیاہ ،مگر خرفہ کے بیج سے بڑے ہوتے ہیں ۔
آیورویدک مہرشیوں نے اس کی سرخ و سفید قسموں میں سے سرخ قسم کی بوٹی (biskhapra plant) کو افضل ترین قرار دیا ہے اور سفید قسم کی بوٹی کی نسبت سرخ قسم کو نہایت قوی مانا ہے ۔اکثر ادویات میں سرخ قسم کے بسکھپرا کا کثرت سے استعمال ہوتا ہے۔
سفید بسکھپرا (biskhapra) بوٹی کی ڈنڈیاں سرخ قسم کی بوٹی کی ڈنڈیوں کی نسبت موٹی اور قدرے نرم ہوتی ہیں جو کہ تین چار ہاتھ تک لمبی چلی جاتی ہیں ۔مگر یہ ڈنڈیاں کھڑی حالت میں نہیں ہوتیں ۔بلکہ زمین پر بچھی ہوئی حالت میں پائی جاتی ہیں ۔سفید قسم کی بوٹی (biskhapra plant) کے پتے قدرے چوڑے اور لمبے ہوتے ہیں ۔بعض بوٹی کے پتے چھوٹے بھی ملتے ہیں ۔اس کی بیل چکر کی شکل میں گولائی لئے پھیلتی ہے ۔اس کے پھول چھوٹے چھوٹے اور آپس میں ملے ہوئے گچھوں کی شکل میں ہوتے ہیں ۔ان کا رنگ نیلگوں اور ان میں سفید تار ہوتے ہیں۔ پھول پتوں اور شاخوں (biskhapra plant) کے درمیان لگتے ہیں ۔اس کی شاخیں اس کی ڈنڈی میں لگی ہوئی ہوتی ہیں۔ان شاخوں پر پتے لگے ہوتے ہیں، پتوں کا ذائقہ خرفہ کے پتوں کی طرح ہوتا ہے ۔مگر ان میں قدرے تلخی اور چرپرا پن بھی پایا جاتا ہے ،بیج باریک اور گولائی لیے ہوتا ہے اور ان کی رنگت اجوائن کی رنگت سے مشابہ ہوتی ہے ۔
سرخ رنگ کے بسکھپرا (biskhapra) کی ڈنڈیاں سفید قسم کی ڈنڈیوں (biskhapra plant) سے زیادہ سخت اور کبودی مائل رنگت لئے ہوتی ہیں ۔یہ تین چار ہاتھ لمبی زمین کی سطح پر پھیلی ہوئی ہوتی ہیں۔ اس کے پتے بھی سفید قسم کی بوٹی کے پتوں کی طرح بڑی بڑی شاخوں کے درمیان ہوتے ہیں اور شاخیں (biskhapra plant) بہت پتلی پتلی ہوتی ہیں ۔جن میں ہر ایک کے سرے پر تین یا ان سے زیادہ تعداد میں سرخ رنگ کے پھول لگتے ہیں ۔یہ پھول نہایت چھوٹے چھوٹے مگر خوبصورت ہوتے ہیں ۔ان پھولوں میں سفید سفید رگیں سی دکھائی دیتی ہیں اور پھولوں میں سے کسی قدر خوشبو بھی آتی ہے سرخ بسکھپرے (biskhapra) کا بیج سفید قسم کے بیج سے قدرے چھوٹا ہوتا ہے۔
آیورویدک حکماء بتاتے ہیں کہ جنگلی قسم کے بسکھپرے (biskhapra) کی ڈنڈیاں دو ہاتھ لمبی اور بعض اس سے بھی زیادہ طولانی ہوتی ہیں۔ ان ڈنڈیوں (biskhapra plant) پر کافی شاخیں پائی جاتی ہیں ۔اس کے پتے مختلف قسم کے پتوں سے بڑے اور پھول سرخ رنگت کے اور ان کا بیج چھوٹے سے غلاف کی مانند ہوتا ہے اور چھوٹا ہوتا ہے ۔اس کے بیج کی وضع قطع میتھی کے بیج سی ہوتی ہے ۔البتہ قامت کے لحاظ سے قدرے چھوٹا ہوتا ہے۔ بیج کا ذائقہ نہایت بدمزہ اور خراب سا ہوتا ہے۔ان میں کسیلا پن زیادہ اور گلے کو چھیلنے والا ہوتا ہے ۔
اس سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ سفید بسکھپرا جس کا پھول نیلگوں ہوتا ہے، میدانی قسم کے بسکھپرے (biskhapra) کا ہے اور جس کا پھول سرخ رنگت لئے ہوئے ہوتا ہے یہ جنگلی قسم میں سے ہے ۔
آیورویدک گرنتھ راج نگھنٹو میں لکھا ہے کہ بسکھپرا (biskhapra) کی بوٹی ہندوستان کے اکثر علاقوں میں پائی جاتی ہے ۔اس کی ڈنڈیاں (biskhapra plant) بقدر نصف ہاتھ لمبی ہوتی ہیں۔اس کی شاخیں پتلی ،سرخی مائل اور پھول خوشبودار ہوتا ہے ۔اس میں سرخی اور سفیدی بھی ہوتی ہے ۔
بھاؤ پرکاش نگھنٹو میں لکھا ہے کہ بسکھپرا (biskhapra) کی بوٹی بھگوان شنکر کی ایک خدائی نعمت ہے۔ بھاؤ پرکاش نگھنٹو کے فاضل مصنف نے ویدوں کے قول کے مطابق بسکھپرا کی تین قسمیں لکھی ہیں ۔ایک سفید ،دوسری سرخ ،اور تیسری نیلی ۔ویدوں میں اور خصوصاً یجروید میں یہ بھی لکھا ہے کہ جس بسکھپرے (biskhapra) کا پھول نیلا ہوتا ہے اس کا نام وشکرانتا ہے اور اس کو مہرشیوں نے سنسکرت میں نیل پشپی اور نیل کرانتا وغیرہ نام لکھے ہیں ۔ان سب الفاظ کے معنی دافع زہر سے لئے گئے ہیں ۔سفید پھول (biskhapra plant) والے بسکھپرے کو ویدوں میں گدپورنہ یا گد پودینہ کہا ہے اور سرخ بسکھپرے کا نام اکت پھپ لکھا ہے ۔سنا کرتا ہوں کہ علاقہ مصر میں بسکھپرے کی ایک ایسی قسم بھی موجود ہے جس کے بیجوں کے آٹے سے دیہاتی لوگ روٹیاں پکا کر کھاتے ہیں ۔
آیوروید شاستر میں اس بوٹی کا ہر حصہ ادویات میں استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے ۔چنانچہ طب آیوروید جیسے پوتر اور ہر دل عزیز فن میں اس کے تمام اجزاء مستعملہ ہیں اور اس کی جڑ کو تریاق زہر کے طور پر بکثرت استعمال کیا جاتا ہے ۔اس کے بیجوں میں وہ بیج مفید و بہتر ہیں جو مولی اور جنگلی قسم کے بسکھپرا (biskhapra) کے ہوتے ہیں ۔
مزاج اور طبیعت کے لحاظ سے یونانی اطباء اس کے بیجوں کو دوسرے درجہ میں گرم اور پہلے درجہ میں خشک مانتے ہیں لیکن بعض اطباء کے نزدیک گرمی و سردی میں معتدل تصور ہوتے ہیں۔ مگر بیج پتوں کی نسبت زیادہ گرم اور خشک ہیں ۔جنگلی قسم کے بسکھپرے کی سرد تاثیر مانی گئی ہے لیکن ویدوں میں سرخ قسم کے بسکھپرے (biskhapra) کی سرد تاثیر مانی گئی ہے ۔آیوروید شاستر میں پتوں کی مقدار خوراک سات گرام سے دس گرام تک اور بیجوں کی مقدار خواک تین گرام سے چھ گرام تک مقرر ہے۔
فوائد:
بسکھپرا (biskhapra plant) کے طبی خواص کا ذکر کرتے ہوئے پراچین آیورویدک مہرشیوں نے لکھا ہے کہ بسکھپرا (biskhapra) ملین شکم اور مسہل ہے۔ بھوک بڑھاتا ہے۔پھوڑے پھنسی ،فساد خون ،بلغم ،صفرا ،سودا اور ورم اعضاء کو دفع کرتا ہے اور داجی کرن رسائن ہے ۔پیاس کی شدت کو ختم کرتا اور امراض بلغمی اور سوداوی کے دافع میں نہایت مفید ہے ۔بخار ،یرقان ،استسقاء ، درد سینہ ،درد شکم ،ورم جگر و طحال ،ورم گردہ ،ورم رحم ،کھانسی اور پیٹ کے بھاری پن کو نافع ہے ۔مدربول و ایام ہے، مثانہ اور گردہ کی پتھری کو ریزہ ریزہ کر کے پیشاب کے راستے خارج کر دیتا ہے ۔
آیورویدک گرنتھوں میں یہ بھی ذکر آتا ہے کہ اس کے پتوں کا رس مفرح قلب ہے اور آنکھوں میں لگانے سے موتیا بند کو بیخ و بن سے ختم کر دیتا ہے۔
امراضِ چشم کے لئے بسکھپرا (biskhapra) رحمت ایزدی ہے ۔اس کے پتوں کا رس کانوں میں ٹپکانے سے کان کا بہنا موقوف ہو جاتا ہے اور کان سے نکل رہے گندے اور غلیظ مواد کو نکال پھینکتا ہے ۔سب سے بڑی اور حیرت انگیز خوبی اس میں یہ ہے کہ یہ بچھو کے زہر کے لئے سریع الاثر اور تریاق اعظم ہے۔ بسکھپرا مادر ِقدرت کی ایک عجیب و غریب بخشش ہے جسے ہم اپنی کوتاہ بینی کے باعث اس بوٹی کو پاؤں تلے روندتے اور کچلتے ہیں اور اسے ایک فضول اور ناکارہ نبات سمجھ کر دیکھنا پسند نہیں کرتے اور اسے کھیتوں سے اْکھاڑ پھینکتے ہیں ۔
اس بوٹی (biskhapra plant) کے رگ و ریشہ میں قدرت نے وہ تاثیر بھر دی ہے جو مریض کو نزع کی آغوش سے چھین لینے کی قوت رکھتی ہے ۔مہرشیوں نے بتایا ہے کہ سر میں چکر آنے کی صورت میں بسکھپرا کے پتے (biskhapra plant) اور ہم وزن دانہ خشخاش اور دھنیہ کے ہمراہ پیس کر پیشانی پر لیپ کرنے سے عارضہ رفع ہو جاتا ہے ۔
اس طرح بے خوابی کے لئے راج نگھنٹو میں لکھا ہے کہ بسکھپرا کے پتوں کو نصف وزن کاہو کے ساتھ رات کو پانی میں بھگو دیں اور صبح پیس کر پیشانی پر لیپ کر دیں ۔اس عمل کی مداومت سے نیند آ جائے گی بلکہ یہی لیپ نکسیر کے عارضہ کو بھی مفید ہے۔
نسیان یعنی یاداشت کی کمزوری کی صورت میں بسکھپرا (biskhapra) کے پتوں کو دو چند دارچینی اور موصلی سفید کے ساتھ مریض کو خیساندہ دینا ازبس مفید ہے ۔عاشق مزاج لوگوں کا عشق جب عالم دیوانگی میں بدل جائے یا قدرتی طور پر مریض پاگل پن کا شکار ہو جائے تو بسکھپرا کے پتے (biskhapra plant) اور ہم وزن کالی مرچ لے کر عرق گاؤ زبان سے جنگلی بیر کے برابر گولیاں بنا لیں اور سایہ میں خشک کریں ۔تمام دن رات میں یہ پانچ گولیاں عرق گلاب کے ہمراہ تین تین گھنٹے کے وقفہ کے بعد دیتے رہنے سے دماغی عارضہ ختم ہو جاتا ہے ۔
اگر دماغ میں بلغم کا غلبہ ہو تو اس کے پتوں کا عرق کشید کر کے دو چند گھی ملا کر نسوار لینے سے بلغم خارج ہو جائے گا اور دماغ کا تنقیہ ہو جائے گا ۔عرق اور گھی کا یہ مرکب پیشانی پر ضماد کرنا چاہئے۔
امراض چشم کے لئے آیورویدک مہرشیوں نے اس بوٹی کو ہمہ صفت مفید مانا ہے ۔فرماتے ہیں کہ آشوبِ چشم ،سرخی اور پھڑکاہٹ کے عارضہ میں جب مریض درد سے بلبلاتا ہو اور کسی پہلو سکون میسر نہ ہو تو ایسی صورت میں بسکھپرا کے پتوں (biskhapra plant) کا رس اور باہمراہ افیون و زعفران حل کر کے آنکھوں کے نیچے اور اوپر لیپ کر دیجئے اور کرشمہ قدرت دیکھئے ،جوں جوں لیپ سوکھتا چلا جائے گا توں توں مریض کو سکون اور راحت کا احساس ہو گا ۔درد اور سرخی آن واحد میں ختم ہو جائے گی ۔(حکیم ہردے نارائن شرما دلکیر)
بسکھپرا (پنرناوا نہ) صرف پراچین طب میں مروج دوا ہے بلکہ اسے ایلوپیتھی نے بھی اپنایا ہے اور ایلوپیتھی میں یہ دوا ایکسٹریکٹ پنرناوا (Ext. Punarnava) کے نام سے مروج ہے ۔مگر یہ بطور پیشاب اور دافع جلودھر کے طور ہی استعمال ہو رہا ہے۔نئی کھوج نے اس کی مقامی استعمال کے لئے افادیت پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے ۔
(حکیم ڈاکٹر ہری چند ملتانی پانی پت)
بسکھپرا (biskhapra) (پنرناوا) کے مجربات
الامراض و العلاج:
مالیخولیا جو احتراق سودائے طبیعی سے ہو۔ بسکھپرا (biskhapra) 5گرام، گاؤ زبان 5گرام، کشنیز خشک5 گرام۔ ان سب کو 250گرام پانی میں جوش دے کر چھان کر شربت افتیمون 10گرام شامل کر کے پلانا مفید ہے ۔
ہذیان:
بسکھپرا چھ گرام، چھوٹی چندن (2/1)1گرام، تخم کاسنی 5گرام، جوش دے کر شیرہ نکال کر مناسب شربت یا مصری شامل کر کے پلانا اور اس کے پتوں کے رس کی نسوار لینا مجرب ہے ۔
دورانِ سر :
برگ بسکھپرا (biskhapra)، پوست الائچی کلاں، کشنیز خشک، پانی میں پیس کر نیم گرم پیشانی پر ضماد کرنے سے فائدہ ہوتا ہے ۔
نیند کا نہ آنا:
برگ بسکھپرا (biskhapra) اور تخم کاہو کا ضماد پیشانی پر لگانا نیند نہ آنے کے لئے مفید ہے، یعنی خواب آور ہے ۔
حب جنون :
بسکھپرا (biskhapra plant) دس گرام، مرچ سیاہ دس گرام ،چھوٹی چندن چھ گرام عرق گاؤ زبان میں خوب گھوٹ کر بقدر مٹر گولیاں بنا کر سایہ میں خشک کر لیں۔24 گھنٹہ میں چار پانچ بار ایک ایک گولی ہمراہ عرق گلاب دینے سے آرام آ جاتا ہے ۔
نکسیر:
آب برگ بسکھپرا کی نسوار لینے سے نکسیر بند ہو جاتی ہے۔
درد سر کے لئے :
بسکھپرا (biskhapra plant) 6گرام، گل مچکن 6گرام، پوست الائچی کلاں 6گرام، پیس کر ضماد کرنے سے فائدہ ہوتا ہے۔
نزلہ بلغمی کے لئے:
بسکھپرا (biskhapra plant) سات گرام، دارچینی(2/1)7 گرام۔ جوش دے کر بطور چائے پینا مفید ہے ۔
پھولا اور جالا:
آب برگ بسکھپرا (biskhapra) شہد میں حل کر کے آنکھوں میں لگانے سے پھولا اور جالا کٹ جاتے ہیں ۔
خارش اور بامنی:
سفید قسم کے بسکھپرا (biskhapra plant) کی جڑ کو گلاب کے عرق میں گھس کر لگانے سے آرام ہو جاتا ہے۔
آشوبِ چشم :
گرمی کی وجہ سے آشوبِ چشم ہو تو آب بسکھرا قدرے افیون اور زعفران کے ساتھ لیپ کرنے سے فائدہ کرتا ہے ۔
روزکوری:
بسکھپرا کے پتوں (biskhapra plant) کو عرق گلاب میں پیس کر صبح پینے سے آرام آ جاتا ہے ۔
ورم زبان:
بسکھپرا (biskhapra) کی جڑ پانی میں گھس کر ملنے سے ورم دور ہو جاتا ہے۔
قلاع دہن (منہ کے چھالے):
برگ بسکھپرا ،خردل جوش دے کر کلی کرنے سے فائدہ ہوتا ہے۔
پہلو کا درد:
بسکھپرا کے بیج (biskhapra plant) ایک درم آب نیم گرم کے ساتھ کھانے سے پہلو کا درد دور ہو جاتا ہے۔
نفث الدم:
بسکھپرا (biskhapra) چار گرام، صمغ عربی ایک گرام، کتیرا ایک گرام، گل ارمنی ایک گرام، صندل سفید ایک گرام۔ کوٹ پیس کر لعاب بہی دانہ میں گولیاں بنا کر تین تین گھنٹے بعد ایک ایک گولی کھلانے سے بند ہو جاتا ہے۔
(حکیم محمد عمر صاحب رجسٹرڈ یونانی پریکٹیشنرز، بنارس )
بینائی کی واپسی :
کافی عرصہ پہلے ایک لڑکی کو آنکھ میں تکلیف تھی ۔بدقسمتی سے کوئی ایسی تیز دوا ہسپتال کے کمپاونڈر نے غلطی سے ڈال دی جس سے آنکھوں کی پتْلیاں بلکل سفید ہو گئیں اور بینائی جاتی رہی ۔چھ سات سال کی بچی جس کے کھیلنے کودنے کے دن تھے، ہمیشہ کے لئے گھر کی چار دیواری کے اندر بیٹھنے پر مجبور ہو گئی ۔لڑکی کے سرپرستوں نے آنکھوں کے ماہرین سے کافی علاج کرایا مگر آنکھیں درست نہ ہوئیں اور وہ مایوس ہو گئے ۔اس تکلیف کو تین سال کا عرصہ گزر گیا۔
اتفاقا ًایک بزرگ وید نے بسکھپرا پر تجربہ کرنے کے لئے مشورہ دیا ۔اس بوٹی کا رس نکالا گیا ۔ڈراپر سے دو دو بوندیں آنکھوں میں ڈالی گئیں ۔لڑکی چند سیکنڈ کے بعد درد سے بیتاب ہو گئی۔ والدین خدا (شوپر ماتما) سے پراتھنا کرنے لگے کہ لڑکی کو بچا دے ۔بعد میں اس دوائی کے نتیجہ کا انتظار کرنے لگے اور لڑکی کو گھر میں بستر پر لٹا دیا گیا ۔مئی جون کا موسم تھا ۔والدین و لڑکی مکان کی چھت پر سوئے ہوئے تھے ،اچانک لڑکی نے چاند کی طرف اشارہ کر کے کہا ۔پتا جی ،وہ چاند ہے ۔لڑکی کی طرف سے یہ انوکھا فقرہ سن کر سب گھر والے چونک پڑے اور حیرانی سے دریافت کیا کہ کیا تمھیں چاند نظر آتا ہے۔لڑکی نے سر ہلاتے ہوئے دوبارہ چاند کی طرف انگلی اٹھائی ۔اس وقت جو خوشی گھر والوں کو ہوئی وہ بیان سے باہر ہے ۔اسی وقت سب نے خدا (شوپر ماتما )کی بخشش کا شکریہ ادا کیا ۔
دوسرے دن لڑکی کو وہی دوائی دو دو بوند ڈالی گئی ۔اب تیزی کم محسوس ہوئی ۔چند روز لگاتار دوائی ڈالنے سے آنکھیں بلکل درست ہو گئیں اور وہ مالک دو جہان کی بنائی ہوئی کائنات (سرشٹی )کو پھر سے اپنی آنکھوں سے دیکھنے لگی۔
یہ مالک دو جہاں کا ہی کمال ہے کہ اس حیرت انگیز بوٹی میں اتنی طاقت بھر دی جس نے اس کی رحمت سے تین سال کی اندھی لڑکی کو نور بخشا گیا ہے ۔
نظر کی کمزوری:
بسکھپرا سالم بوٹی کو کوٹ کر رس نکالیں اور اس میں سرمہ کالا بڑھیا کھرل کریں ۔پانچ روز کھرل کرنے کے بعد جب سرمہ خشک ہو جائے تو شیشی میں ڈال رکھیں ۔روزانہ استعمال کرنے سے آنکھوں کی نظر تیز ہو جاتی ہے اور بڑھاپے میں بھی بینائی قائم رہتی ہے ۔
ابتدائی موتیا بند :
اس کی جڑ چھاچھ میں گھس کر ہلکی سلائی سے آنکھ میں لگائیں ۔ابتدائی موتیا بند کے لئے مفید ہے ۔
پھولا :
اس جڑ کو خالص گھی میں گھس کر ہلکی سلائی سے آنکھوں میں لگائیں تو چند روز میں پھولا کٹ جاتا ہے ۔
(حکیم دیوان بوگھا رام صاحب گولڈ میڈلسٹ)
امراض چشم :
بسکھپرا کی جڑ کا رس 50گرام ،نیم کے پھولوں کا رس 30گرام ،پیاز کا رس 20گرام ،شہد خالص 12گرام ،کافور بھیم سینی 5گرام ۔
ایک شیشی میں ڈال کر تین دن رکھیں ۔شیشی آدھی خالی رکھیں ۔پھر کپڑے سے چھان کر ایک ایک بوند صبح و شام ڈراپر سے ڈالیں۔ آنکھوں کے تمام امراض میں مفید ہے ۔(حکیم گردھاری لال حکیم حازق ،جھانسی )
نمک بسکھپرا :
سالم پودا بسکھپرا لے کر خشک کر کے خاکستر بنا لیں اور پانی میں بھگو کر مقطر کر کے بطریق مروجہ نمک حاصل کریں۔ یہ نمک استسقاء والے کے لئے بہت مفید ہے۔ قے و دست آ کر مکمل صحت حاصل ہو گی ۔
خوراک :
2/1سے ایک گرام بتاشہ میں ڈال کر دیں ۔
علاوہ ازیں یہ نمک ہر اڑنے والی دھات کو قائم رکھتا ہے اور دھاتوں کو چرخ دے کر اس پر چٹکی دینے سے اس ک پھٹکی دور کر کے نرم کر دیتا ہے۔
شافہ بندش ایام :
چھلکا جڑ بسکھپرا منقی( دانے نکال کر) برابر وزن ،دونوں کوٹ کر پیس لیں ۔پھر شافہ بقدر کھجور چھوٹی بنا کر دایہ سے تین دن بیرونی رکھوائیں ،بندش ایما کا عارضہ دور ہو گا ۔حاملہ کے لئے اس کا استعمال سخت منع ہے۔
سوزش بول :
بسکھپرا کے پتے 10گرام ،مرچ کالی 4عدد ،گھوٹ کر پلائیں ۔پیشاب کی نالی کی سوجن اور پیشاب کی رکاوٹ کے لئے مفید ہے ۔
پیٹ کے کیڑے :
بسکھپرا کی جڑ دس گرام ،پانی 25گرام میں جوشاندہ بنا کر پلائیں ۔پیٹ کے کیڑے خارج ہو جائیں گے ۔(از حکیم محمد اسمٰعیل صاحب رجسٹرڈ یونانی پریکٹشنرز )
پنروا (بسکھپرا )آدی چورن (بھیشج رتانولی ):
پنروا ،گلو ،سونٹھ ،بدھارا ،سونف ،کچور، منڈی ہر ایک دس دس گرام سب اجزاء کو کوٹ کر کپڑ چھان کر لیں
خوراک :
5گرام نیم گرم پانی سے کھانا کھانے کے ڈیڑھ گھنٹہ بعد دیں۔
اس چورن (سفوف )سے معدہ کی سوجن ،ریاحی امراض، لنگڑی کا درد اور جوڑوں کا درد دور ہوتا ہے ۔اس میں سب اجزاء زود ہضم اور قبض کشا ہیں۔
مشہور آیورویدک چورن ہے ۔
دیگر:
مشہور نام "پنروا آدی چورن "ہے ۔یہ بھی مشہور آیورویدک گرنتھ "بھیشج رتناولی” کا نسخہ ہے۔
پنروا (بسکھپرا )،دیودارو ،گلو ،پاٹھا ،بیل گری ،گوکھرو ،چھوٹی کنڈیاری کی جڑ ،بڑی کنڈیاری کی جڑ ،ہرڑ ،دارو ہلدی ،پپلی ،چترک، اڑوسہ ،ہر ایک 10-10گرام ۔سب کو کوٹ پیس کر چھان لیں ۔
خوراک :
دو گرام نیم گرم پانی یا شہد کے ساتھ دیں ۔پیٹ کے تمام امراض ،سوجن، درد ،سب امراض دور ہو جاتے ہیں ۔اس کے علاوہ الرجی وغیرہ کے لئے بھی مفید ہے ۔
پنروا آدی کواتھ( بھاو پرکاش ،بھیشج رتناولی ):
جڑ پنروا (بسکھپر،ا) دیودارو بڑھیا ،ہلدی (نئی گانٹھ والی )،کٹکی ،پٹول پتر، ہرڑ ،نیم کی چھال ،ناگر موتھا ،سونٹھ ،گلو ہری ہر دوا 50-50گرام لیں ۔دوائیں بڑھیا اور خالص ہوں ۔سب ادویات کو موٹا موٹا کوٹ لیں ۔خوراک 20گرام سے 40گرام تک صبح و شام 16گنا پانی میں 8گھنٹے تک اسے ایک قلعی دار برتن یا مٹی کے برتن میں بھگو دیں۔برتن مٹی کا اگر نیا ہو تو 100گرام پانی زیادہ ڈالیں کیونکہ نیا مٹی کا برتن پانی چوس لیتا ہے ۔آگ پر جوش دیتے ہوئے جب4/1 حصہ باقی رہے تو گوگل شدھ ملا کر صبح استعمال کرائیں ۔کواتھ کا پھوگ دوبارہ بھگو کر مندرجہ بالا طریقہ سے صبح و شام پینا چاہئے۔
گوگل شدھ کی مقدار ایک گرام سے دو گرام تک ہے ۔کواتھ و گوگل کی مقدار مریض کے حالات و موسم کے مطابق ہونی چاہئے۔ پیٹ کے امراض ،کھانسی ،پیٹ کے درد ،دمہ اور یرقان کے لئے مفید ہے ۔اس کواتھ کے استعمال کے دوران لیموں ،سنگترہ ،ترش انار ،ٹماٹر، املی ،،دہی ،لسی ،اروی ،بھنڈی ،کیلا ،اڑو کی دال ،چاول ،انڈے ،گوشت وغیرہ استعمال نہ کرائیں۔ گھیا ،گاجر، مونگ کی دال ،سالم مونگ ،شلغم، ہری توری ،دودھ وغیرہ کا استعمال کرائیں ۔
بچوں کا سوکھا :
بسکھپرا کی جڑ بہت معمولی سی اور ایک کالی مرچ پانی میں گھس کر صبح و شام ایک ہفتہ تک روزانہ شہد میں چٹانے سے دق الاطفال یعنی سوکھا کے مریض کو آرام آ جاتا ہے ۔
نزلہ زکام :
بسکھپرا کو باریک پیس کر کپڑ چھان کر لیں اور نزلہ و زکام میں بطور نسوار استعمال کریں ۔اس سے نزلہ و زکام کو آرام آ جاتا ہے ۔
استسقاء :
بسکھپرا کے تازہ پتوں کی بھجیا پکا کر چپاتی کے ساتھ کھلانا استسقاء کے عارضہ کے لئے مفید ہے۔
دیگر: بسکھپرا کے تازہ پتوں کا پانی 10گرام روزانہ پلانے سے استسقاء کو آرام آ جاتا ہے ۔اس سلسلہ میں غذا بغیر نمک والی اور گھی خالص کھلاتے ہیں۔
جڑی بوٹیوں کاانسائیکلو پیڈیا
از: حکیم وڈاکٹرہری چند ملتانی
بسپکھرا (اٹ سٹ) (Spreading Hog Weed)
لاطینی میں:
Trianthema Portulacastrum خاندان: Ficoideae
دیگر نام :
عربی میں حندقوقی ٗ سندھی میں داہو ٗ ہندی میں وانٹھ (بار بار پیدا ہونے والی) بنگالی میں سانوری ٗسنسکرت میں شوبھاگنی ٗشودھنی (ورم مٹانے والی) پنجابی میں اٹ سٹ ٗ فارسی میں دیواسپست
ماہیت :
ایک بیل ہے جو زمین پر پھیلی ہوتی ہے۔ پتے لگ بھگ خرفہ کے پتوں کی طرح مگر اس سے بڑے ہوتے ہیں جو کہ سی قدر بیضوی ٗبعض بیل کے قدرے لمبے اور کچھ چوڑے ہوتے ہیں ۔ پھول سفید ہلکا سرخ ٗنیلا چھوٹا اور گچھوں میں ہوتے ہیں اس کی شاخوں کی گانٹھوں پر گنڈیاں ہوتی ہیں جن میں سیاہ رنگ تخم بھرے ہوتے ہیں۔ اس کی شاخ تھوری موٹی سفید اور نرم ہوتی ہے ۔ جس کی لمبائی ڈیڑھ یا دو میٹر ہوتی ہے اور یہ زمین پر بچھی ہوتی ہے ۔ اس کے پتوں کا مزہ خرفہ کے پتوں کی طرح مگر کچھ تیزی اور چرچرا پن ہوتا ہے ۔ بڑی بڑی شاخوں سے چھوٹی چھوٹی شاخیں نکلتی ہیں اس کی جڑ کافی لمبی ہوتی ہے ۔
اقسام:
پھولوں کی رنگت کے لحاظ سے سرخ و سفید دو قسم کا اٹ سٹ ہوتا ہے ۔سفید سبپکھرا کا پھول نیلا ہوتا ہے ۔ اس کی ایک قسم سانٹھ کے نام سے مشہور ہے۔ اس کے علاوہ اس کی بہت سی قسمیں ہیں۔ جن سب کو پزنواہی کہا جاتا ہے ۔
مقام پیدائش:
یہ پاکستان ٗ ہندوستان میں موسم برسات اور چیت بیساکھ (مارچ سے اپریل) میں نمدار مقامات پر بکثرت پیدا ہوتی ہے۔ سیلون کو علاوہ مصر میں سبپکھرا کی ایک ایسی قسم پیدا ہوتی ہے۔ جس سے روٹی پکائی جاتی ہے۔
مزاج :
گرم خشک حکیم مظفر اعوان صاحب اس کا مزاج گرم اول خشک درجہ دوم جبکہ حکیم رام لبھایا صاحب اس کا مزاج گرم خشک درجہ دوم لکھتے ہیں ۔
افعال:
مدربول و حیض ٗ جالی ٗ محلل ٗ منفث بلغم ٗ دافع بخار ٗ مفتح سنگ ٗ دافع زہر کثوم
تخم سبپکھرا:
مقوی باہ ٗ کاسر ریاح
استعمال :
محلل و مدربول اور مفتح حصاة ہونے کی وجہ سے اس کے تازہ پتوں کا پانی نکال کر گائے کے دودھ میں ملا کر دینا پیشاب کو جاری کرتا ہے۔ پانی کے ہمراہ استعمال کرنے سے استسقاء ٗیرقان اور اسہال سدی میں دینا مفید ہے ۔ صلابت جگر و طحال اور سنگر گردہ و مثانہ کو دور کرنے کے لئے بھی دیتے ہیں ۔
آنکھ کے امراض خصوصا جالے اور پھولے کے لئے بطور قطور استعمال کرتے ہیں۔ جالی ہونے کی وجہ سے اس کا مروق بنا کر آنکھوں میں ڈالنا مقوی بصر ہے ۔ سبپکھرا کی جڑ کی سلائی بنا کر آنکھوں میں استعمال کرنا مزکوہ امراض میں مفید ہے ۔ منفث بلغم ہونے کی وجہ سے سبپکھرا کو دمہ اور بلغمی کھانسی میں استعمال کرتے ہیں۔
دافع بخار ہونے کی وجہ سے بخاروں میں استعمال کرتے ہیں۔ تریاق ہونے کی وجہ سے بچھو کے کاٹے کے مقام پر باندھنا زہر کو دور کرتا ہے ۔
تخم سبپکھرا مقوی باہ ہونے کی وجہ سے باہ کی معجونوں میں شامل کرتے ہیں ۔ یہ تخم قبض کو دور کرتا ہے۔ بھوک کو بڑھاتا اور عرق بھی مزکورہ فائدے رکھتا ہے ۔ پیٹ میں سردی اور ریاح کی وجہ سے درد ہو تو اس کو پلانا مفید ہے ۔ خصیوں کے ورم کو تحلیل کرتا ہے ۔
درد و بندش حیض میں اس کا مروق پانی بمقدار (50) ملی لیٹر(پانچ تولہ) ہر چار گھنٹے کے بعد پلانے سے فائدہ ہوتا ہے۔ احتباس نفاس کی وجہ سے پرسوت کے بخار میں بھی یہی نسخہ بہتر ہے ۔ دق اطفال یعنی سوکھا میں سبپکھرے کی جڑ ذرا سی گھس کر ایک سیاہ مرچ ڈال کر صبح و شام ایک ہفتہ چٹانے سے بچہ کو اس مرض سے نجات مل جاتی ہے ۔
بیخ سبپکھرا کو کھانسی ٗدمہ اور بلغمی بخاروں میں کھلاتے ہیں۔ اس کو خوب باریک پیس کر نزلہ و زکام میں بطور نسوار استعمال کرتے ہیں ۔
استسقاء کے مریضوں کو تازہ سبز پتوں کا پانی ایک تولہ روزانہ پلاتے ہیں اور غذابغیر نمک اور روغن کھلاتے ہیں۔
سبپکھرا سفید قسم کی جڑ اور نبات سفید ملا کر درد شقیقہ کے لئے مفید ہے ۔ اس کو اکثر اطباء رسائن کہتے ہیں ۔
نفع خاص:
مدربول و حیض ٗمقوی باہ
مضر:
صدر کے لئے
مصلح:
شہد ٗ کتیرا ٗ کاہو
کیمیاوی اجزاء :
سرخ قسم میں اس کے خشک پتوں میں پزنوین Punarnavine ایک فیصدی لیکن جڑ میں چار فیصدی ہوتی ہے ۔ یہ ایک طرح کا ہائیڈروکلورائیڈ ہے۔ اس کے علاوہ اس میں پوٹاشیم نائٹریٹ 6.4فیصد ٗسلفیٹ کلورائیڈ ہوتا ہے ۔ ایک نہ اڑنے والا تیل ہوتا ہے ۔ تازہ پتوں میں پانی زیادہ ہوتا ہے ۔ اس لئے اس کو خشک کر کے اس کی جانچ کرنی چاہئے نیز اس میں پوٹاشیم زیادہ ہونے کی وجہ سے پیشاب آور ہے ۔
سفید قسم میں:
خشک پتوں میں Punarnavineمیں دس فیصد اور کھار جس کا سلیمنگ سوتری 23 فیصد NOH سے 11 فیصد ہے۔
مقدار خوراک:
تخم بسپکھرا دو سے تین گرام (ماشے) جڑ پانچ سے سات گرام ٗپانی چھ ماشہ سے ایک تولہ تک(6ملی لیٹر سے 12 ملی لیٹر تک)
تاج المفردات
(تحقیقاتِ)
خواص الادویہ
ڈاکٹروحکیم نصیر احمد طارق