اسلام اپنے ماننے والوں کو ایک مکمل نظام حیات مہیا کرتا ہے۔ اور زندگی کے ہر پہلواور ہر شعبے میں رہنمائی کرتا ہے ۔ اسلام میں شامل عبادات صرف عبادات ہی نہیں بلکہ اُن میں کیسے کیسے راز اور کیسی کیسی حکمتیں پوشیدہ ہیں، یہ کوئی اہلِ عقل سے پوچھے۔ جن کی حقّانیت کو، اسلام کے منکر، مغرب کے ذی شعور لوگ اور سائنس بھی (fasting science) تسلیم کرتی ہے۔ جیسے روزے (fasting benefits) ہی کی مثال لے لیجیے۔اسلام کے پانچ ارکان میں روزہ تیسرا رکن ہے۔
قراّن مجید میں ارشاد ہوتا ہے۔
اےایمان والو! تم پر روزے فرض کئے گئے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تا کہ تم پرہیز گار بن جاؤ۔( سورۃ البقرہ 183 )
یعنی پچھلی امتوں پر بھی روزے فرض کئےگئے تھے۔ اوراب بھی مذہب اسلام میں ہی نہیں بلکہ اور دوسرے مذاہب میں بھی روزہ رکھا جاتا ہے ۔ لیکن تعداد ، وقت ، پابندیوں ،سحراور افطار کے جوبہترین طرائق مذہب اسلام میں ہیں۔ وہ طریقے اوردوسرے مذاہب میں نہیں۔
اسی طرح قراّن میں ارشاد ہوتا ہے۔
اور اگر تم جانو تو روزہ رکھناتمہارے لئے زیادہ بہتر ہے ۔( سورۃ البقرہ 184 )
اسی طرح اس حدیث سے بھی روزے کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے ۔کہ
اللہ تعالی فرماتا ہے کہ روزہ (fasting benefits) میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا ۔
مسلمان روزہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی ، اُس کی رضا اور اُس کےاحکام کی بجا آوری کے لیے رکھتا ہے۔لیکن روزہ رکھنے سے اُس کی زندگی پر کیا اثرات مرتّب ہوتے ہیں اور اُس کو کیا کیا فوائد حاصل ہوتے ہیں ۔ اسکو میڈیکل سائنس نے بھی تسلیم کرلیا ہے۔سائنس بھی یہ تسلیم کر چکی ہے کہ روزہ انسانی جسم کو صحتمند اور طاقت و توانا رکھتا ہے۔
سائنسی نقطئہ نظر (fasting science) سے انسانی جسم میں جگر بہت اہم کام انجام دیتا ہے اور سائنس کہتی ہے کہ کم از کم سال بھر میں تیس دن جگر کو چار، چھ گھنٹے کا روزانہ آرام ملنا چاہیئے تاکہ جگر پورا سال اپنا کام بہتر طریقے سے انجام دے سکے اور جگر میں کوئی خرابی پیدا نہ ہو۔ اور یہ تحقیق روزے کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ روزہ ہی وہ واحد ذریعہ ہے جو انسانی صحت کی ضمانت ہے۔ میڈیکل سائنس کے نقطئہ نظر سے یہ بات بھی ثابت ہو چکی ہے کہ روزہ (fasting benefits) رکھنے سے نہ صرف نظامِ انہضام کو تقویت ملتی ہے بلکہ روزہ رکھنےسے وزن بھی کم ہوتا ہے۔کیونکہ وزن کم کرنے کے لیے کم کھانا یا متوازن غذا لینا اتنا کارگر نہیں ہوتا جتنا روزہ رکھنا۔ روزہ بلڈپریشر اور کولیسٹرول کے امراض کا بھی علاج ہے۔
میڈیکل سائنس (fasting science) کی تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوچکا ہے کہ کینسر جیسے مرض کی روک تھا م میں بھی روزہ ہی اہمیت کا حامل ہے۔
اور روزہ بڑھا پے کے اثرات کو بھی جلد نمودار ہونے سے روکتا ہے۔ کیونکہ روزہ کی وجہ سے ایسے ہارمونز کی رفتار کم ہو جاتی ہے جو انسان کو ضعیف العمری میں مبتلا کرتے ہیں۔ روزے کی حالت میں انسانی جسم کی ٹوٹ پھوٹ کی مرمت بھی ہوتی ہے۔
غرض سائنسی نقطئہ نظرسے میڈیکل سائنس روزے کی افادیت ، انسانی صحت پر اسکے مثبت اثرات کو کھلے دل سے تسلیم کرچکی ہے۔
خود اعتمادی: اپنے بارے میں کیسے بہتر محسوس کریں
اپنی عزت نفس کو بڑھانے کے لیے ہمیں اپنے خیالات...